نئی دہلی، 14/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) پارلیمنٹ میں اڈانی معاملے پر سوال پوچھنے اور وزیراعظم مودی سے ان کی قربتوں کا حوالہ دینے کی پاداش میں راہل گاندھی کو تحریک مراعات شکنی کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ بی جےپی کے ۲؍اراکین پارلیمان نشی کانت دوبے اور پرلہاد جوشی نے وزیراعظم مودی کے خلاف راہل گاندھی کے بیان پر مراعات شکنی کا نوٹس پیش کیا ہے جس پر لوک سبھا سیکریٹریٹ نے راہل گاندھی کو بدھ تک جواب دینے کا وقت دیا ہے۔
راہل گاندھی کے خلاف یہ شکایت ان کی ۷؍ فروری کی تقریر کی بنا پر کی گئی ہے جس میں انہوں نے اڈانی کے خلاف ہنڈن برگ رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے اس معاملے کو پوری شدت سے اٹھایا تھا اور وزیراعظم مودی سے ان کے قریبی تعلقات کا حوالہ دیاتھا۔ اپنی تقریر میں راہل گاندھی نے الزام لگایاتھا کہ اڈانی کی اس غیر معمولی ترقی کے پس پشت مودی ہیں۔ دونوں کے درمیان تعلق کو ثابت کرنے کیلئے انہوں نے ایوان میں اڈانی اور مودی کی ایک تصویر بھی دکھائی تھی۔ اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے حوالہ دیاتھا کہ بھارت جوڑو یاترا کے دوران لوگوں نے ان سےیہ جاننے کی کوشش کی کہ اڈانی کی اچانک ترقی کی وجہ کیا ہے۔ ان کے مطابق عوام یہ جاننا چاہتے ہیںکہ ۲۰۱۴ء میں جس اڈانی کا کل اثاثہ ۸؍ بلین ڈالر تھا وہ ۲۰۲۲ء میں ۱۴۰؍ بلین ڈالرکے اثاثوں کا مالک کیسے ہوگیا ۔
پرلہاد جوشی اور نشی کانت دوبے کے مراعات شکنی کے نوٹس میں الزام لگایاگیاہے کہ راہل گاندھی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مودی کے خلاف جو باتیں کہیں ان کے ثبوت نہیں پیش کرسکے۔دوبے نے اس ضمن میں خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ ’’اسپیکر کو کوئی نوٹس دیئے بغیر آپ وزیراعظم پر ایسے الزامات نہیں لگا سکتے۔‘‘ دوبے نے کہا کہ ’’مراعات شکنی کے نوٹس میں ہم نے راہل گاندھی سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنے دعوؤں کی تائید میں وہ ۱۵؍ فروری تک اسپیکر کے سامنے ثبوت پیش کردیں۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ پارلیمنٹ کے ایوان میں معافی مانگیں یا پھر اپنی رکنیت کھونے کیلئے تیار رہیں۔‘‘
نشی کانت دوبے نے راہل گاندھی کی تقریر کے خلاف اسپیکر اوم برلا سے ایک مکتوب کے ذریعہ ۸؍ فروری کو ہی شکایت کی تھی۔اس میں راہل گاندھی کے الزامات کو ’’بے بنیاد، گمراہ کن، جھوٹ پر مبنی، غیر مہذب اور غیر پارلیمانی‘‘ قرار دیتے ہوئے ایوان کے وقار کے منافی بتایا گیا ہے۔ مکتوب کے مطابق’’راہل گاندھی نے ایوان میں بیان دیاتھا کہ وہ دستاویزی ثبوت دیں گے مگر انہوں نے کوئی تصدیق شدہ دستاویز پیش نہیں کیا جس سے ان کے الزامات کی تائید ہوتی ہو۔‘‘
بی جےپی کے رکن پارلیمنٹ کے مطابق یہ نہ صرف ایوان کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے بلکہ وزیراعظم کی شبیہ کو بھی داغدار کرتا ہے۔ تحریک مراعات شکنی کے نوٹس کے مطابق’’یہ رویہ ایوان اوراس کے اراکین کی مراعات کے ہی خلاف نہیں ہے بلکہ ایوان کی توہین بھی ہے۔ ‘‘اس میں اسپیکر سے کہاگیا ہے کہ ’’میں آپ سے راہل گاندھی کے خلاف ایوان کی مراعات شکنی کے معاملے میں فوری کارروائی کی مانگ کرتا ہوں۔‘‘
دوسری طرف کانگریس نے لوک سبھا اسپیکر سے ایک مکتوب کےذریعہ اپیل کی ہے کہ وہ راہل گاندھی کی تقریر سے اڈانی پر کئے گئے سوالات کے حصوں کو حذف کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ ان کی دلیل ہے کہ ’’ الزامات کانگریس پارٹی نہیں لگا رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ادارہ’ہنڈن برگ ریسرچ پیپر‘ نے لگائے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں فراڈ بھی ہوا ہے اور ضوابط کی خلاف ورزی بھی ہوئی ہے۔‘‘ اس سے قبل صدر کے خطبہ پر تحریک شکریہ میں راہل گاندھی اڈانی اور مودی کے درمیان تعلق کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اڈانی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کچھ شعبوں میں ضوابط تک بدلے گئے ہیں۔